Surah Al-Baqarah Arabic Urdu Translation With Tafseer

0
40
views
Surah Al-Baqarah Arabic Urdu Translation With Tafseer

Surah Al-Baqarah Arabic Urdu Translation With Tafseer

ف ١ اس سورت میں آگے چل کر گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس کو بقرہ (گائے کے واقعہ والی سورت کہا جاتا ہے) حدیث میں اس کی ایک خاص فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ جس گھر میں یہ پڑھی جائے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ نزول کے اعتبار سے یہ مدنی دور کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے البتہ اس کی بعض آیات جمعۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئیں۔ بعض علماء کے نزدیک اس میں ایک ہزار خبر ایک ہزار احکام اور ایک ہزار منہیات۔ (ابن کثیر)

Surah Al-Baqarah Ayat (1) Audio

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الم ۝١

الم

 Surah Al-Baqarah Ayat (1) Tafseer

ف ١ الف لام میم انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے، یعنی علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف ان کے معنی کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے (وَاللّہ العالِمُ بمرادہ) البتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ضرور فرمایا ہے میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، میم ایک حرف اور لام ایک حرف ہر حرف پر ایک نیکی اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (2) Audio

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۝٢

وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو

 Surah Al-Baqarah Ayat (2) Tafseer

ف ١ اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں جیسے کہ دوسرے مقام پر ہے (تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) 032:002 علاوہ ازیں اس میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صداقت میں جو احکام و مسائل بیان کئے گئے ہیں ان کے برحق ہونے میں کوئی شک نہیں۔
ف ٢ ویسے تو یہ کتاب الٰہی تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہے لیکن اس چشمہ فیض سے سراب صرف وہی لوگ ہونگے جو آب حیات کے متلاشی اور خوف الٰہی سے سرشار ہوں گے۔ جن کے دل میں مرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جواب دہی کا احساس اور اس کی فکر ہی نہیں اس کے اندر ہدایت کی طلب یا گمراہی سے بچنے کا جذبہ ہی نہیں ہوگا تو اسے ہدایت کہاں سے اور کیوں کر حاصل ہوسکتی ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (3) Audio

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ ۝٣

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں-

Surah Al-Baqarah Ayat (3) Tafseer

ف ١ اَمُوْر غَیْبُۃ سے مراد وہ چیزیں ہیں جنکا ادراک عقل و حواس سے ممکن نہیں۔ جیسے ذات باری تعالیٰ ، وحی، جنت دوزخ، ملائکہ، عذاب قبر اور حشر وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتلائی ہوئی ماورائے عقل و احساس باتوں پر یقین رکھنا، جزو ایمان ہے اور ان کا انکار کفر و ضلالت ہے۔
ف ٢ اقامت صلٰوۃ سے مراد پابندی سے اور سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا، ورنہ نماز تو منافقین بھی پڑھتے تھے۔
ف ٣ اَنْفَاقْ کا لفظ عام ہے جو صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔ اہل ایمان حسب اطاعت دونوں میں کوتاہی نہیں کرتے بلکہ ماں باپ اور اہل و عیال پر صحیح طریقے سے خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے اور باعث اجر وثواب ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (4) Audio

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۝٤

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں،

Surah Al-Baqarah Ayat (4) Tafseer

ف ١ پچھلی کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ کتابیں انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوئیں وہ سب سچی ہیں وہ اب اپنی اصل شکل میں دنیا میں نہیں پائی جاتیں نیز ان پر عمل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اب عمل صرف قرآن اور اس کی تشریح نبوی۔ حدیث۔ پر ہی کیا جائے گا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ وحی و رسالت کا سلسلہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم کردیا گیا ہے، ورنہ اس پر بھی ایمان کا ذکر اللہ تعالیٰ ضرور فرماتا۔

Surah Al-Baqarah Ayat (5) Audio

أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۝٥

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (5) Tafseer

ف ١ یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ و عمل اور عقیدہ صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے۔ کامیابی سے مراد آخرت میں رضائے الٰہی اور اس کی رحمت و مغفرت کا حصول ہے۔ اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوش حالی اور سعادت و کامرانی مل جائے تو سبحان اللہ۔ ورنہ اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوسرے گروہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جو صرف کافر ہی نہیں بلکہ اس کا کفر وعناد اس انتہا تک پہنچا ہوا ہے جس کے بعد اس سے خیر اور قبول اسلام کی توقع ہی نہیں۔

Surah Al-Baqarah Ayat (6) Audio

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝٦

بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے ا نہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں۔

Surah Al-Baqarah Ayat (6) Tafseer

ف ١ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شدید خواہش تھی کہ سب مسلمان ہوجائیں اور اسی حساب سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوشش فرماتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایمان ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ یہ وہ چند مخصوص لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی (جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ) ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت و تبلیغ سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے حتٰی کہ پھر پورا جزیرہ عرب اسلام کے سایہ عاطفت میں آگیا۔

Surah Al-Baqarah Ayat (7) Audio

خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝٧

اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب،

Surah Al-Baqarah Ayat (7) Tafseer

ف ١ یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہوچکی ہے اور ان کے کان حق کی بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح سے لاسکتے ہیں ؟ ایمان تو ان ہی لوگوں کے حصے آیا ہے اور آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے مغفرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ کر کے گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا دل پہلے کی طرح صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ وہ زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14؀) 083:014 یعنی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے جو ان کی مسلسل بداعمالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (8) Audio

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ ۝٨

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں،

Surah Al-Baqarah Ayat (8) Tafseer

ف ١ یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جن کے دل تو ایمان سے محروم تھے مگر وہ اہل ایمان کو فریب دینے کے لئے زبان سے ایمان کا اظہار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نہ اللہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تو سب کچھ جانتا ہے اور اہل ایمان کو مستقل فریب میں رکھ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے مسلمانوں کو ان کی فریب کاریوں سے آگاہ فرما دیتا تھا یوں اس فریب کا سارا نقصان خود انہی کو پہنچتا ہے کہ انہوں نے اپنی عاقبت برباد کرلی اور دنیا میں بھی رسوا ہوئے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (9) Audio

يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ۝٩

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔

Surah Al-Baqarah Ayat (9) Tafseer

وہ دھوکہ بازی کرتے ہیں اللہ سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور (درا صل) وہ نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے آپ کو اور وہ نہیں سمجھتے

Surah Al-Baqarah Ayat (10) Audio

فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ۝١٠

ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا -

Surah Al-Baqarah Ayat (10) Tafseer

ف ١ بیماری سے مراد وہی کفر و نفاق کی بیماری ہے جس کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح جھوٹ بولنا منافقین کی علامات میں سے ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (11) Audio

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ۝١١

اوران سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں،

Surah Al-Baqarah Ayat (11) Tafseer

قرآن کا چیلنج :
سورة بقرہ کے آغاز میں قرآن مجید کے غیر مشکوک ہونے کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے ۔ سورة بقرہ ہی میں ایک اور دعویٰ کیا گیا ہے جو قرآن مجید میں کم از کم تین جگہوں پر ملتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وان کنتم ۔۔۔۔۔۔۔ صدقین
ترجمہ : “ اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے ، کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو ، مدد لے لو۔ اگر تم سچے ہو (تو یہ کام کر کے دکھاؤ) ۔ ” (البقرہ : ٢٣)
ذرا غور کیجئے ، قرآن پاک دعویٰ کر رہا ہے کہ تم سب خطیب ، شاعر ، ادیب ، نقاد وغیرہ مل کر بھی اس قرآن کی ایک سورة جیسی سورة لے آؤ۔ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ اور چیلنج ہے جو ڈیڑھ ہزار برس نہ سے نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔ اور پھر یہ کسی مخصوص دور کے لئے نہیں بلکہ تا قیامت ہے۔ دنیا کی ہر زبان اور زبان آور کے لئے ہے۔ جہاں بھی کوئی شاعر ، ادیب اور نقاد موجود ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عمدہ سے عمدہ چیز لکھ سکتا ہے تو یہ کلام پاک کا چیلنج ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی کلام لے آئے۔ اس کے ساتھ ہی ایک چیلنج اور بھی کردیا کہ فیصلہ کے لئے بھی اپنے ہی ساتھیوں کو لاؤ۔ قابل غور بات ہے کہ عموماً مقابلوں میں غیر جانبدار منصفین کا مطالبہ کیا جاتا ہے ، لیکن یہاں قرآن پاک چیلنج کر رہا ہے کہ اپنے ہی ساتھیوں کو فیصلہ کے لئے لے آؤ اور پھر کفار سے کہا کہ تم دیکھو گے کہ تمہارے اپنے ساتھی جو تمہاری حمایت بھی کرتے ہیں اور مدد بھی ، وہی یہ فیصلہ دیں گے کہ تمہاری لائی ہوئی آیتیں کلام پاک جیسی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اور کلام پاک کے بڑے سے بڑے مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کریں گے کہ کوئی شخص اس کلام پاک کی ایک سورة بھی نہ بنا سکے گا۔ پھر اس کے ساتھ ہی قرآن پاک ایک اور دعویٰ بھی کر رہا ہے۔

Surah Al-Baqarah Ayat (12) Audio

أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِنْ لَا يَشْعُرُونَ ۝١٢

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں،

Surah Al-Baqarah Ayat (12) Tafseer

ف ١ فساد، اصلاح کی ضد ہے۔ کفر و معصیت سے زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور اطاعت الٰہی سے امن و سکون ملتا ہے۔ ہر دور کے منافقین کا کردار یہی رہا ہے کہ پھیلاتے وہ فساد ہیں اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں اور پامال حدود الٰہی کو کرتے ہیں اور سمجھتے اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اصلاح اور ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔

Previous articleHar Qisam Ki Haajat Ko Poora Karne Ka Ammal In Urdu Hindi
Next articleHar Kaam Mein Kamyabi Ka Wazifa | Kamyabi Ka Amal
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:- میرا نام محمد اطہر رسول ہے میرا تعلق پنجاب پاکستان سے ہے الحمداللہ 17 سال سے عملیات کی دنیا سے وابستہ ہوں الحمدللہ بہت سے عمل کئے اللہ تعالی نے کامیابی سے نوازا آپ لوگوں کو اگر کسی بھی عمل کے بارے میں کچھ پوچھنا ہو جو آپ کو سمجھ نہ آ رہی ہو آپ ہمیں کسی بھی پوسٹ کے نیچے کمینٹ کرکے پوچھ سکتے ہیں یا پھر آپ ہمارے واٹس ایپ نمبر پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں+923344211117 اگر کسی بھائی اور بہن کی اولاد نرینہ نہ ہو وہ ہم سے رابطہ کریں ان کو ایک ایسا عمل بتایا جائے گا جس سے سوفیصد اولاد نرینہ اللہ تعالی عطا فرما دے گا! الحمدللہ اولاد نرینہ والا عمل 54 لوگوں کو بتایا گیا ان لوگوں نے اس پر عمل کیا اور میرے اللہ نے کرم فرما دیا میرے اللہ نے ان کو اولاد نرینہ سے نواز دیا اگر آپ اس کی خواہش رکھتے ہیں تو ہمارے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں یا پھر ہماری کسی بھی پوسٹ کے نیچے کمنٹ کر سکتے ہیں یا پھر ہمارے یوٹیوب چینل پر بھی کمنٹ کرکے پوچھا جا سکتا ہے وسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
SHARE